آنکھ سے آنسو

0
46

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا
تو پھر سورج ابھرا ہوتا
کہتے کہتے غم کا فسانہ
کٹتی رات، سویرا ہوتا
کشتی کیوں ساحل پر ڈوبی
موجیں ہوتیں، دریا ہوتا
جو گرجا پیاسی دھرتی پر
کاش وہ بادل برسا ہوتا
پھولوں میں چھپنے والوں کو
کانٹوں میں تو ڈھونڈا ہوتا
تجھ کو پانا سہل نہیں ہے
سہل جو ہوتا تو کیا ہوتا
اپنے سو بیگانے ہوتے
ایک یگانہ اپنا ہوتا
پوچھ ضیاء یہ اہل دل سے
پیار نا ہوتا تو کیا ہوتا

Rate this post
Previous articleآزاد زندگی ہے
Next articleاپنی میرا سے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here