امید

0
60

تو بنانے مجھے آئی ہے، چلی جا، جا بھی
تیری باتوں میں نہ آوں گا، نہ آوں گا کبھی
تیری باتوں ہی میں آکر تو ہوا ہوں برباد
چھوڈ پیچھا مرا، کم بخت، کمینی، بد خو
زندگی میری اجیرن ہوئی تیرے کارن
تو مرے پیچھے چلی آتی ہے – دن ہو کہ ہو رات –
باد و باراں میں بھی پاتا ہوں تجھے ساتھ اپنے
اور جب تو ہے مرے ساتھ تو پھر فل الوا قع
میری منزل ہوئی جاتی ہے پہنچ سے باہر
تیرے نغموں کی مدھر تانوں میں کھو جاتا ہوں
شورش زیست سے بے فکر سا ہو جاتا ہوں
تجھ کو منحوس ادا ہاۓ تبسّم کی قسم
بجلیاں خرمن دل پر نہ مرے اور گرا
میرے اشکوں کو نہ دعوت دے امڈ آنے کی
تیرے چہرے سے اتر جاۓ جو غازے کی یہ تہہ
دیکھنا تجھ کو گوارا نہ کرے آنکھ کبھی
تیرے رنگین و حسیں سپنے ہیں مکر اور فریب
زندگی تلخ حقیقت ہے تو پھر تلخ سہی

Rate this post
Previous articleاک قیامت مری حیات بنی
Next articleانقلاب ای بہار

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here