ایک لٹیرا

0
64

کس سے کھیلوں، جی بہلاؤں
اچھلوں، کودوں، ناچوں، گاؤں
ہنسوں، ہنساؤں، روؤں، رلاؤں
کیسے بگڑی بات بناؤں
ٹوٹ گیا ہے دل کا کھلونا
دل کا کھلونا ٹوٹ گیا

میں ہوں، رات ہے، تنہائی ہے
غم کی کالی گھٹا چھائی ہے
بیتے دنوں کی یاد آئی ہے
دل کی کلی پھر مرجھائی ہے
چھوٹ گیا ہے ساتھ یوگوں کا
ساتھ یوگوں کا چھوٹ گیا

یہ تو بتا، او جانے والے
میں برہن ہوں کس کے حوالے
دل میں زخم، زباں پر تالے
بھرنے کو ہیں صبر کے پیالے
پھوٹ گیا ہے ہاے نصیبا
ہاے نصیبا پھوٹ گیا

سوکھا گیا موسم ساون کا
مالا ٹوٹی، بکھرا منکا
ہوش کسے ہے اب تن من کا
نیند آنکھوں کی، سکھ جیون کا
لوٹ گیا ہے ایک لٹیرا
ایک لٹیرا لوٹ گیا

Rate this post
Previous articleایذا طلبی
Next articleبہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here