خبر لی آسماں نے پھر زمیں کی

0
86

خبر لی آسماں نے پھر زمیں کی
رہی پروا نہ پھر دنیا و دیں کی
ہے سنگ در کو پھر حاجت جبیں کی
بڑھیں بے چینیاں جان حزیں کی
کہیں کس سے کہ پھر دھن ہے وہیں کی

امید و آرزو کا جشن سیمیں
غزل پرور فضاۓ داد و تحسیں
نشیمن، شاخ گل، صیّاد و گلچیں
ہوا و سبزہ و گلہاۓ رنگیں
یہ ساری شوخیاں ہیں اک حزیں کی

نہ پوچھو ہمدمو، کچھ حال دل کی
ازل سے اک یہی تو آرزو تھی
عجب منظر تھا جب بھی آنکھ کھولی
کوئی تصویر کیسی، کوئی کیسی
بلایں لیجیئے حسن آفریں کی

خراب جستجو ہیں دفن اس میں
نثار آرزو ہیں دفن اس میں
شہید عشق خو ہیں دفن اس میں
ہزاروں لالہ رو ہیں دفن اس میں
بھری ہے گود پھولوں سے زمیں کی

کوئی بنجر زمیں بوتا ہے شاعر
کوئی وقت سحر سوتا ہے شاعر
وقار غم کوئی کھوتا ہے شاعر
کوئی یوں خون بھی روتا ہے شاعر
ذرا حالت تو دیکھو آستیں کی

Rate this post
Previous articleچپ –
Next articleخود سری کا بھرم نہ کھل جاے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here