شادی

0
64

اپنے آنگن میں جو لگایا تھا
ایک پودا گلاب کا میں نے
بیس اور نو برس میں وہ بڑھ کر
میرے قد کے قریب آ پہنچا
روشنی گھر کے گوشے گوشے میں
اس کے حسن و جمال کی پھیلی
لے اڑی نکہت اس کی باد سحر
اور معطر ہوا تمام چمن
رکھ دیا زندگی کا نام چمن –

دور سے دیکھ کر اسے خنداں
کھل اٹھی ایک نا شگفتہ کلی –
دو دلوں کی خموش دھڑکن نے
راز مستی کہا اشاروں میں
چھڑ گیا ساز لے کر انگڑائی
کھول دی اپنی آنکھ نغموں نے
سبز پتّوں نے تالیاں پیٹیں
شاخیں محد ہوا میں جھول گئیں
غم و آلام دہر بھول گئیں –

شادمانی، نشاط، کیف و طرب
بجتی شہنایوں کا شور و غل
نرتکی کائنات کی رقصاں
زندگی جیسے اک حسین غزل
بن سنور کر بنی ہوئی دلہن
اک نے موڈ پر کھڈی ہے حیات
دے رہی ہے نئی سحر کا پیام
روشنی ہر طرف ہویدا ہے
سر انسانیت پہ سہرا ہے

Rate this post
Previous articleسوچ کا سفر
Next articleشاعر سجدے میں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here