محبّت

0
67

محبّت لفظ تو سادہ سا ہے، لیکن ضیاء اس میں
سمٹ آئی ہیں سب رنگینیاں گلزار ہستی کی
کرے تفسیر اس کی کوئی، اتنی تاب ہے کس کی
کہ یہ تو آخری منزل ہے راہ کیف و مستی کی
محبّت سے ہے وابستہ ترقی روح انساں کی
یہ راز عالم ایجاد سے آگاہ کرتی ہے
یہی تنظیم کرتی ہے خیالات پریشاں کی
دلوں کو بے نیاز حسن مہر و ماہ کرتی ہے
رواں ہیں میری رگ رگ میں محبّت کی حسیں لہریں
نفس کی ہر صدا سے راگنی الفت کی سنتا ہوں
تماشا حسن کا کرتا ہوں اکثر اس کے نغموں میں
محبّت کی نواسامانیوں پر سر بھی دھنتا ہوں
محبّت اک حسیں نشتر ہے، جو جذب رگ جاں ہے
ممحبّت میرا مذہب ہے، محبّت میرا ایماں ہے

Rate this post
Previous articleمانجھی
Next articleمحمد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here