Rubaiyat

0
63

منہ اشکوں سے دھونا بھی نہ آیا مجھ کو
دامن کو بھگونا بھی نہ آیا مجھ کو
بیداد جہاں سہہ گیا ہنستے ہنستے
روتا ہوں کہ رونا بھی نہ آیا مجھ کو

تمہید ہی انتہا فسانے کی ہے
یہ رسم قدیم کھونے پانے کی ہے
ہستی ہے نیستی، عدم میرا وجود
آنا میرا دلیل جانے کی ہے

آواز جنوں فتنہ فریاد سہی
اخلاص و وفا کی داد، بیداد سہی
رکھتا ہوں نگاہ اپنے مستقبل پر
ماضی مرے امروز کی بنیاد سہی

تدبیر کا ہر رنگ نکھارا میں نے
تقدیر کی زلفوں کو سنوارا میں نے
دیر اور حرم سے بچ کے اے معبد حسن
خوش ہوں کہ لیا تیرا سہارا میں نے

چلتا ہے تو آندھیوں پہ بن آتی ہے
رکتا ہے تو کائنات تھم جاتی ہے
یہ تیرا ہی جذبہ عمل ہے اے دل
تدبیر جو تقدیر سے ٹکراتی ہے

یوں عقدے حیات کے کہیں کھلتے ہیں؟
بے سعی و عمل کبھی نہیں کھلتے ہیں
اٹھتی ہے جہاں حسن کے چہرے سے نقاب
اسرار شباب کے وہیں کھلتے ہیں

بادہ میں متاع ہوش گھولی ہے کبھی
اشکوں سے جبین شوق دھولی ہے کبھی
ہر ذرے میں صد ہزار سورج روشن
اے طالب دید آنکھ کھولی ہے کبھی

ہر روز نیا گناہ کرتا ہوں میں
ہر جادہ عصیاں سے گزرتا ہوں میں
مرنے کا کجھ خوف نہیں ہے لیکن
اعمال کے انجام سے ڈرتا ہوں میں

پستی کو بلندی سے ملایا ہم نے
ذروں کو جہاں تاب بنایا ہم نے
اک جرعہ سہباے بغاوت کی قسم
تاروں سے حجاب نور اٹھایا ہم نے

ظلمت کے بغیر نور پاے گا کہاں
خوابوں کے حسیں قلعے بناے گا کہاں
دھرتی کی کشش سے بچ نکلنے والے
جذب الفت سے بچ کے جاے گا کہاں

الفت کی حقیقت سے فسانہ بہتر
یہ ہوش ہے تو ہوش گنوانا بہتر
جس سے نہ شگفتہ ہو مرے دل کی کلی
اس ہنسنے سے تو اشک بہانا بہتر

5/5 - (1 vote)
Previous articleLet Me Gather In My Folds
Next articleRubaiyat

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here